جمعہ، 1 جنوری، 2016

نیا سال اور ہماری منافقت ۔ ۔ ۔

آج سال ۲۰۱۶ کا پہلا دن ہے اور مزےَ کی بات یہ ہے کے سال ۲۰۱۵ کے آخری دن اور آج ۲۰۱۶ کے پہلے دن میں مجھے تو کمزکم کویَ خاص فرق محسوس نہیں ہورہا ہے۔ وہ ہی صبح، وہ ہی دن اور رات بھی وہ ہی ہونی ہے۔ تو پھر اتنی خوشی کس بات کی؟

مطلب جس چیز کا نا کوئ سر نا کوئ پیر ہم اس کی خوشی میں اتنے پاگل ہوگےَ کے نا تو ہمیں اپنی حدوں کا احساس رہا نا ہی طریقوں کا۔ بس کیونکہ کے پوری دنیا ایک غیر ضروری عمل میں اپنا وقت برباد کرتی ہے توہم کیسے پیچھے رہ جایَں؟ ہمیں ایک بات اپنے ذہنوں میں بیٹھا لینی چاہیےَ، کہ جن ملکوں میں ایسی مستیاں ہوتی ہیں یا تو وہ ترقی یافتہ ملک ہوتے ہیں یا پھر ترقی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان کی طرح ہر طرف سے خسارے میں نہیں ہوتے۔

وہاں کے باشندے پورے سال کتوں کی طرح محنت کرتے ہیں اور پھر آخر میں کچھ شور کرتے ہوےَ اچھے بھی لگتے ہیں۔ مگر ہمیں کس بات کی خوشی؟ ہم تو پورا سال غم مناتے ہیں، کبھی بھٹو کا غم، کبھی بھٹو کی اولاد کا، کبھی آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا تو کبھی فلاں کا۔ کیا عجیب منافقت ہے؟ کیا دوگلاپن ہے؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں